اسلام اور سائنس
- Get link
- X
- Other Apps
سائنسی انقلاب برپا ہوا تھا۔ اس وقت ایک آدمی کی زندگی کی متوقع معیاد چالیس سال سے بھی کم تھی۔ آج یہ معیاد پچھتّر برس سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ بے ہوشی کی دوائوں (انیستھیزیا)کی ایجاد سے قبل، زخمی تکلیف کے مارے جاں بحق ہو جاتے تھے لیکن آج فن جراحت اتنی ترقی پاچکی ہے کہ جسم کے خراب اعضاء نکال کر ان کی جگہ دوسرے لگائے جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ دل، گردے، جگر، آنکھیں وغیرہ ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ طبی سائنس نے کس قدر آج ترقی کی ہے اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب کسی عزیز کی جان خطرے میں ہوتی ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ طب کس قدر بالغ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سائنس نے اونٹوں اور گھوڑوں کا زمانہ ختم کر دیااور اب انسان خلا ء کی وسعتوں اور سمندرکی گہرائیوں میں بھی بہ آسانی سفرکرتا ہے۔ دور دراز کی خبریں جو پہلے ہفتوں، مہینوں اور سالوں میں پہنچتی تھیں، اب پلک جھپکتے مل جاتی ہیں۔ گرچہ سائنس کے یہ کمالات شاندار ہیں لیکن اس کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انسان کے علم اور شعورکے درمیان مناسبت پیدا کی ہے، اسے یہ احساس دلایا ہے کہ فطرت نے بے شمار قوتیں زمین و آسمان کے درمیان فراہم کی ہیں اور وہ انہیں قابو میں کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں ⇦ https://wp.me/p7zTiB-cmn
Summarize Check
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment