ہنر مندی . . . . Skills

Image
  اللہ تبارک وتعالی کا عرش پانی پر تھا پھر اس ذات نے قصد کیا اور اپنی ایک مٹھی مٹی پانی میں ڈال کر زمین بنائی اور اپنی قدرت سے اوپر کی طرف دھوان اچھالا اور ساتوں أسمان وجود میں ائے جسکے نتیجے میں کائینات وجود میں أٔئی اور اس میں مختلف مخلوقات پیدا فرما ئیں جس میں ایک مخلوق انسان بنائی اور پھر اسے اشرف المخلوقات کے  درجے سے نوازا۔تما م مخلوقات میں سب سے ذیادہ  خصوصیات عطا کیں ذہین اور با اختیار بنایا ۔ان تمام خصوصیات میں ایک خاصیت ہنر مندی ہے جسکا أج میں یہاں ذکر کرنے والا ہوں۔   The throne of Allah Tabarak wa Taali was on the water, then He intended and put a handful of clay in the water and created the earth, and by His power he threw smoke upwards and the seven heavens came into existence, as a result of which the universe came into existence and different in it. He created the creations in which he created a human being and then blessed him with the status of Ashraf al-Makhluqat. He gave the most qualities of all creations, made him intelligent and powerful. ...

پاکستان میں تمام گلیشیر پگھلنے کا خطرہ منڈلانے لکا





پگھلتے گلیشئرز، پاکستان کے لیے خطرہ بن گئے

’’ایسا لگا قیامت آ گئی ہے، میں نے سوچا تھا کہ شادی کی تقریب میں خواتین اور بچے گائیں گے، ناچیں گے لیکن ان کی چیخ و پکار نے مجھے دھلا کر رکھ دیا‘‘۔ یہ کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ جاوید راہی کا۔

جاوید راہی نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رات بھر اس تیاری میں گزاری کہ اگلے دن وہ اپنے بھتیجے کی شادی میں خوب مزہ کریں گے۔ سب تیاری مکمل تھی، بس کچھ گھنٹے گزرنے کا انتظار تھا۔

تاہم یہ انتظار سوگ میں بدل گیا۔ جاوید راہی اگلے دن صبح چیخ و پکار کی آوازوں سے بیدار ہوئے۔ پہاڑی علاقے پر واقع ان کا گاؤں شدید سیلابی ریلوں کی زد میں تھا۔ لوگ بدحواسی میں جان بچانے کی خاطر ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

ریاضی کے ریٹائرڈ ٹیچر سڑسٹھ سالہ جاوید راہی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ اچانک سیلاب نے ان کے گاؤں کے لوگوں کو ایک صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔

’ایسی تباہی کا سوچا بھی نہ تھا‘

گلگت بلتستان کے دلکش پہاڑوں میں واقع ہنزہ ویلی کا مشہور گاؤں حسن آباد کے قریب ہی ایک گلیشیئر ٹوٹ گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ علاقہ زیر آب آ گیا۔ جاوید نے بتایا کہ سیلابی ریلوں کا پریشر اتنا زیادہ تھا کہ پانی اور مٹی سے کثیف دھوئیں کے بادلوں نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے تھا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔

 پگھلتے گلیشئرز سے خطرات

پاکستان میں مجموعی طور پر سات ہزار کے لگ بھگ گلشیئرز ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور برف کے ان تودوں کے پگھلنے کا عمل تیز تر ہو رہا ہے۔ پگھلتے گلیشئرز اچانک ٹوٹ جائیں تو پہاڑوں سے نیچے آتے پانی کا بہاؤ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ جو کچھ راستے میں آتا ہے، وہ بہہ جاتا ہے۔

پاکستان کے گلگت بلتستان کے ریجن میں درجنوں گلیشئرز پگھلنے کی وجہ سے ہزاروں جھیلیں بھی وجود میں آ چکی ہیں۔ حکومت پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم ہائی وے کے قریب کم ازکم تینتیس جھیلیں ایسی ہیں، جو سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔

حکام کے مطابق یہ جھیلیں لاکھوں کیوسک پانی اچانک خارج کر سکتی ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس سیلاب کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

حسن آباد میں حالیہ سیلاب نے وہاں کے باسیوں کو مالی طور پر بھی بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ جاوید راہی کے بقول انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اچانک وہ اس طرح مفلس ہو جائیں گے۔ ان کی املاک اور گھر سب کچھ اس سیلاب کی نذر ہو چکا ہے جبکہ اب وہ اپنے گاؤں کے دیگر لوگوں کے ساتھ حکومتی مدد پر عارضی شیلٹر ہاؤسز میں پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان کا نمبر آٹھواں

عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان میں بالخصوص زراعت سمیت کئی شبعے شید خطرات کا شکار ہیں۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس کے مطابق موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر شدید ترین متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Above the World

کل اثاثہ ایک ہی مکان تھا

ہنر مندی . . . . Skills