ہنر مندی . . . . Skills

Image
  اللہ تبارک وتعالی کا عرش پانی پر تھا پھر اس ذات نے قصد کیا اور اپنی ایک مٹھی مٹی پانی میں ڈال کر زمین بنائی اور اپنی قدرت سے اوپر کی طرف دھوان اچھالا اور ساتوں أسمان وجود میں ائے جسکے نتیجے میں کائینات وجود میں أٔئی اور اس میں مختلف مخلوقات پیدا فرما ئیں جس میں ایک مخلوق انسان بنائی اور پھر اسے اشرف المخلوقات کے  درجے سے نوازا۔تما م مخلوقات میں سب سے ذیادہ  خصوصیات عطا کیں ذہین اور با اختیار بنایا ۔ان تمام خصوصیات میں ایک خاصیت ہنر مندی ہے جسکا أج میں یہاں ذکر کرنے والا ہوں۔   The throne of Allah Tabarak wa Taali was on the water, then He intended and put a handful of clay in the water and created the earth, and by His power he threw smoke upwards and the seven heavens came into existence, as a result of which the universe came into existence and different in it. He created the creations in which he created a human being and then blessed him with the status of Ashraf al-Makhluqat. He gave the most qualities of all creations, made him intelligent and powerful. ...

پتھر اور سیاروں کی تاثیر


جواہرات نگینوں کا کام ہے تو



ہماری دکان پر لوگ آتے
ستاروں کی مدد سے یا نام کے ذریعے ہمارا پتھر نکال دیں، ہمارا تو یقین ہے کہ ان پتھروں سے کچھ نہیں ہوتا، صرف شوق کے لیے پہنتے ہیں، اب آپ مشورہ دیں کہ ان کو کیا کہا کری




واضح رہے کہ اس کائنات میں پیش آنے والا ہر چھوٹا بڑا واقعہ اللہ تعالی کے حکم اور منشا کے مطابق ہوتاہے، اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہوتا، ہم کوتاہ فہموں کو سمجھانے اور کائنات کا مرتب نظام چلانے اور دیگر بہت سی حکمتوں کے تحت اللہ رب العزت نے ہمارے روزمرہ کے معاملات کو ظاہری اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، (جن حکمتوں کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے،) روٹی بھوک مٹاتی ہے، پانی پیاس بجھاتا ہے، آگ حرارت کا سامان مہیا کرتی ہے وغیرہ وغیرہ، ان تمام اسباب کے پیچھے حقیقی مؤثر ذات اللہ تعالی کی ہے، جو اس تمام نظام کو چلا رہی ہے، کسی ظاہری سبب یا شے کا اس نظام کو چلانے اور اس پر اثر انداز ہونے میں بذاتِ خودکوئی دخل نہیں۔


ستارے، سیارے اور ہاتھوں کی لکیروں کا انسانی زندگی کے بنانے یا بگاڑنے میں کوئی اثر نہیں، اسی طرح مخصوص پتھر یا مخصوص اعداد بھی انسانی زندگی پراثر انداز نہیں ہوتے، انسان کی زندگی مبارک یا نامبارک ہونے میں اس کے اعمال کا دخل ہے، نیک اور اچھے اعمال انسان کی مبارک زندگی اور برے اعمال ناخوش گوار زندگی کا باعث ہوتے ہیں، پتھروں یا اعداد کو اثر انداز سمجھنا مشرک قوموں کا عقیدہ ہے، مسلمانوں کا نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت اس سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تو پتھر ہے، نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، اگر میں نے رسولِ خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا، نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کے دلوں میں پتھروں کی تاثیر کا جاہلی عقیدہ مٹانے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے سامنے حجر اسود سےاس انداز میں گویا

Comments

Popular posts from this blog

Above the World

کل اثاثہ ایک ہی مکان تھا

ہنر مندی . . . . Skills